کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: جنادہ بن ابی امیہ کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمٍ الدِّمَشْقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ قَالُوا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ أَجْرَمَ: مَنْ عَقَدَ لِوَاءً فِي غَيْرِ حَقٍّ، أَوْ عَقَّ وَالِدَيْهِ، أَوْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ، فَقَدْ أَجْرَمَ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ} [السجدة: ٢٢] "
ترجمہ
…سلیمان بن ایوب بن حذلم دمشقی، اور محمد بن ہارون بن محمد بن بکار، اور جعفر بن محمد فریابی کے واسطے سے، وہ کہتے ہیں: ہمیں سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، وہ اسماعیل بن عیاش سے، وہ عبدالعزیز بن عبیداللہ سے، وہ عبادہ بن نسی سے، وہ جنادہ بن ابی امیہ سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تین کام جو بھی کرے، وہ گناہگار ہوا: جو ناحق جھنڈا کھڑا کرے، یا اپنے والدین کی نافرمانی کرے، یا کسی ظالم کے ساتھ چلے، تو وہ گناہگار ہوا، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں“ [سورۃ السجدہ: 22]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17248
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 61، حدیث 112
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَبَّانَ الرَّقِّيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا خُنَيْسُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ قَوْمًا دَخَلُوا عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالُوا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَنْسَهُ، وَلَمْ يَتَشَبَّهْ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَجْلِسُونِي، فَأَخَذَ بَعْضُ الْقَوْمِ بِيَدِهِ وَجَلَسَ بَعْضُهُمْ خَلْفَهُ، فَقَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَنْسَهُ وَلَمْ يَتَشَبَّهْ عَلَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنِّي أُحَذِّرُكُمْ أَمَرَ الدَّجَّالِ، إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبِّيَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ: كَافِرٌ يَقْرَأُهُ الْكَاتِبُ وَغَيْرُ الْكَاتِبِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ، وَجَنَّتُهُ نَارٌ "
ترجمہ
…ابوالزنباع، اور احمد بن یحییٰ بن خالد بن حبان رقی کے واسطے سے، دونوں کہتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، وہ خنیس بن عامر سے، وہ ابوقبیل سے، وہ جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھے، تو انہوں نے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور آپ اسے بھولے نہ ہوں، اور آپ پر مشتبہ نہ ہوئی ہو، تو انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، چنانچہ کچھ لوگوں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کچھ ان کے پیچھے بیٹھ گئے، تو انہوں نے کہا: میں تمہیں ضرور وہ حدیث سناؤں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، نہ اسے بھولا ہوں اور نہ وہ مجھ پر مشتبہ ہوئی ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی نبی ایسا نہیں گزرا مگر اس نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا، اور میں تمہیں دجال کے معاملے سے ڈراتا ہوں، وہ کانا ہے، اور بیشک تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا: ”کافر“، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ (بھی) پڑھ لے گا، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک آگ ہوگی، تو اس کی آگ (دراصل) جنت ہوگی اور اس کی جنت آگ ہوگی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17249
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 61، حدیث 113