کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطیہ بن ابی جمیلہ، ابوہزان، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ أَبُو هَزَّانَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَاللهُ يَهْدِي، وَقَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي، فَمَنْ بَلَغَهُ مِنِّي شَيْءٌ بِحُسْنِ هَدْيٍ وَرَغْبَةٍ فَذَاكَ الَّذِي يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ بَلَغَهُ شَيْءٌ بِسُوءِ هَدْيٍ وَسُوءِ رَغْبَةٍ فَذَلِكَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو صرف پہنچانے والا ہوں اور ہدایت دینے والا اللہ ہے، اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور دینے والا اللہ ہے، تو جسے مجھ سے کوئی چیز اچھے طریقے اور رغبت کے ساتھ پہنچے تو اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور جسے کوئی چیز برے طریقے اور بے رغبتی کے ساتھ پہنچے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ فَضَالَةَ، أَنَّ أَبَا هَزَّانَ عَطِيَّةَ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ حَدَّثَهُمْ، يَرُدُّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَيَرُدُّهُ مُعَاوِيَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَاللهُ يَهْدِي، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي، فَمَنْ جَاءَهُ مِنَّا شَيْءٌ بِحُسْنِ هَدْيٍ وَحُسْنِ رَغْبَةٍ فَذَلِكَ الَّذِي يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ جَاءَهُ مِنَّا شَيْءٌ بِسُوءِ هَدْيٍ وَسُوءِ رَغْبَةٍ فَذَلِكَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ»
ترجمہ
ابوہزان عطیہ بن ابی جمیلہ نے یہ حدیث بیان کی اور اسے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو صرف پہنچانے والا ہوں اور ہدایت دینے والا اللہ ہے، اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دینے والا اللہ ہے، تو جسے ہماری طرف سے کوئی چیز اچھے طریقے اور اچھی رغبت کے ساتھ پہنچے تو اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور جسے ہماری طرف سے کوئی چیز برے طریقے اور بے رغبتی کے ساتھ پہنچے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔“