کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَارِظٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ: «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ فُقَهَاؤُكُمْ؟، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ الْقُصَّةِ «، وَوَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ، فَلَمْ أَرَهَا عَلَى عَرُوسٍ وَلَا عَلَى غَيْرِهَا أَجْمَلَ مِنْهَا عَلَى مُعَاوِيَةَ»
ترجمہ
ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں منبر پر یہ کہتے سنا: ”اے اہلِ مدینہ! تمہارے فقہاء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جیسی لٹ سے منع کرتے سنا،“ اور انہوں نے اسے اپنے سر پر رکھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کسی دلہن یا کسی اور پر اسے معاویہ رضی اللہ عنہ کے سر پر جتنا خوبصورت نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَارِظٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَكَرَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كُنَّا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَفَرَضَ اللهُ عَلَيْنَا صِيَامَ رَمَضَانَ، فَوَضَعَ عَنَّا صِيَامَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ»
ترجمہ
ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، پھر اللہ نے ہم پر رمضان کا روزہ فرض کیا تو عاشوراء کا روزہ ہم سے ہٹا دیا، پس جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“