المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، عن معاوية باب: ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16855
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَارِظٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَكَرَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كُنَّا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَفَرَضَ اللهُ عَلَيْنَا صِيَامَ رَمَضَانَ، فَوَضَعَ عَنَّا صِيَامَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ»ترجمہ
…ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو منبر پر سنا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، پھر اللہ نے ہم پر رمضان کا روزہ فرض کیا تو عاشوراء کا روزہ ہم سے ہٹا دیا، پس جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“