کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا لبیبہ انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] بَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «يَا رَبُّ هَذَا شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَيْهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ؟»
ترجمہ
سیدنا لبیبہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب یہ آیت پڑھتے: ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے“ [سورۃ النساء: 41] تو رسول اللہ ﷺ رو پڑتے اور فرماتے: ”اے میرے رب! میں تو ان لوگوں پر گواہی دیتا ہوں جن کے درمیان میں رہا، تو ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام / حدیث: 16541
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 221، حدیث 492
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرٍ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأَكَلَ مِنْهَا هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا، ثُمَّ إِنَّ بَشَرًا مَاتَ، فَلَمَّا مَاتَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ الَّتِي أَهْدَتْهَا، فَقَالَ: «مَا أَطْعَمْتِنَا وَيْحَكِ؟» ، فَقَالَتْ: أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ، قَالَ: «مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟» ، قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ، فَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا عَلِمْتُ أَنَّهَا لَا تَضُرُّكَ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُلِبَتْ
ترجمہ
(راوی کہتے ہیں:) وہ دونوں شدید بیمار پڑ گئے، پھر بشر (بن براء) کا انتقال ہو گیا، جب وہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی عورت کے پاس، جس نے زہر آلود گوشت تحفے میں دیا تھا، کسی کو بھیجا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے ہمیں کیا کھلایا تھا، تیرا برا ہو؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو زہر کھلایا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو نبوت کا دعویٰ کرتے سنا تھا، تو میں نے سوچا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نبی نہیں ہیں تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلا دوں گی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام / حدیث: 16542
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 221، حدیث 493