المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
لبيبة الأنصاري باب: سیدنا لبیبہ انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرٍ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأَكَلَ مِنْهَا هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا، ثُمَّ إِنَّ بَشَرًا مَاتَ، فَلَمَّا مَاتَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ الَّتِي أَهْدَتْهَا، فَقَالَ: «مَا أَطْعَمْتِنَا وَيْحَكِ؟» ، فَقَالَتْ: أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ، قَالَ: «مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟» ، قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ، فَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا عَلِمْتُ أَنَّهَا لَا تَضُرُّكَ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُلِبَتْ(راوی کہتے ہیں:) وہ دونوں شدید بیمار پڑ گئے، پھر بشر (بن براء) کا انتقال ہو گیا، جب وہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی عورت کے پاس، جس نے زہر آلود گوشت تحفے میں دیا تھا، کسی کو بھیجا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے ہمیں کیا کھلایا تھا، تیرا برا ہو؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو زہر کھلایا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو نبوت کا دعویٰ کرتے سنا تھا، تو میں نے سوچا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نبی نہیں ہیں تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلا دوں گی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔