کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا کیسان، ابونافع، جن کی کنیت ابورافع بھی تھی، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ الدِّمَشْقِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ كَيْسَانَ نَفْسَهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ فِي الْخَمْرِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزِّقَاقِ يُرِيدُ بِهِ التِّجَارَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي جِئْتُ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا كَيْسَانُ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ» ، قَالَ كَيْسَانُ: فَأَذْهَبُ فَأَبِيعُهَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ، وَحَرَامٌ ثَمَنُهَا» ، فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزِّقَاقِ فَأَخَذَهَا بِأَرْجُلِهَا ثُمَّ أَهْراَقَهَا جَمِيعًا
ترجمہ
(سیدنا کیسان ابو نافع رضی اللہ عنہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عمدہ شراب لے کر آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے کیسان! یہ تو حرام کر دی گئی ہے۔“ کیسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! تو کیا میں جا کر اسے بیچ دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حرام ہو چکی ہے، اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔“ تو کیسان مشکیزوں کی طرف گئے، انہیں پیروں سے پکڑا اور سب شراب بہا دی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا أَبِي يَزِيدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْفَدَكِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّائِفِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ كَيْسَانَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ: حَمَلَ خَمْرًا إِلَى الْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلْتَ يَا أَبَا رَافِعٍ؟» ، قَالَ: خَمْرًا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَمَا تَعْرِفُ أَنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ؟» ، قَالَ: أَمَا أَبِيعُهَا الْيَهُودَ؟، قَالَ: «إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا» ، فَشَقَّ أَبُو رَافِعٍ زِقَاقَهُ بِالْبَطْحَاءِ
ترجمہ
سیدنا نافع بن کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (کیسان رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کے شراب کو حرام قرار دینے سے پہلے مدینہ میں شراب لائے، پھر آپ ﷺ کے پاس آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ابو رافع! تم کیا لائے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: شراب، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ تمہارے بعد حرام کر دی گئی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے یہودیوں کے ہاتھ بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیچنے والا بھی پینے والے ہی کی طرح ہے۔“ تو ابو رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے مشکیزے بطحاء میں چاک کر دیے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ فِي دِمَشْقَ»
ترجمہ
سیدنا کیسان ابو نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق میں سفید مینار کے پاس اتریں گے۔“