حدیث نمبر: 16488
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا أَبِي يَزِيدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْفَدَكِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّائِفِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ كَيْسَانَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ: حَمَلَ خَمْرًا إِلَى الْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلْتَ يَا أَبَا رَافِعٍ؟» ، قَالَ: خَمْرًا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَمَا تَعْرِفُ أَنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ؟» ، قَالَ: أَمَا أَبِيعُهَا الْيَهُودَ؟، قَالَ: «إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا» ، فَشَقَّ أَبُو رَافِعٍ زِقَاقَهُ بِالْبَطْحَاءِ
ترجمہ

سیدنا نافع بن کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (کیسان رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کے شراب کو حرام قرار دینے سے پہلے مدینہ میں شراب لائے، پھر آپ ﷺ کے پاس آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ابو رافع! تم کیا لائے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: شراب، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ تمہارے بعد حرام کر دی گئی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے یہودیوں کے ہاتھ بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیچنے والا بھی پینے والے ہی کی طرح ہے۔“ تو ابو رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے مشکیزے بطحاء میں چاک کر دیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16488
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 196، حدیث 439