حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَسْتُ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَقَبَّلْتُ يَدَيْهِ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» ، قُلْتُ مِنْ مُزَيْنَةَ
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت کو چھوا اور آپ ﷺ کے دونوں ہاتھ چومے، پھر آ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کس قبیلے سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: مزینہ سے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ؟، فَقَالَ: «إِنَّ الْأَوْعِيَةَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا فَانْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ»
ترجمہ
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے (نبیذ رکھنے کے) برتنوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے، لہٰذا جس برتن میں چاہو نبیذ بناؤ، اور ہر نشہ آور چیز سے بچو۔“