کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: اسحاق بن ربیع، ابوحمزہ عطار، کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا فِي عَضُدِهِ حَلْقَةً مِنَ صُفَرٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: نُعِتَتْ لِي مِنَ الْوَاهِنَةِ قَالَ: أَمَا إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ وَلَا تُطُيِّرَ لَهُ، وَلَا تَكَهَّنَ وَلَا تُكُهِّنَ لَهُ» أَظُنُّهُ قَالَ: «أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ»
ترجمہ
… انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے بازو میں پیتل کا چھلا تھا، تو اس سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجھے واہنہ کے لیے بتایا گیا ہے۔ فرمایا: خبردار، اگر تم اسی حالت میں مر گئے تو تمہیں اسی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بدشگونی لی یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، اور جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کہانت کی گئی، وہ ہم میں سے نہیں“ - راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15446
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 162، حدیث 355
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَا: ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ إِنْ قَلِيلٌ فَقَلِيلٌ، وَإِنْ كَثِيرٌ فَكَثِيرٌ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امیر آدمی کا کسی سے سوال کرنا اس کے چہرے پر داغ ہے، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15447
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 162، حدیث 356
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ "
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے، ”تو نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلامی میں لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15448
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 162، حدیث 357
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، «فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے، ”تو نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلامی میں لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15449
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 162، حدیث 358
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، «فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے، ”تو نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلامی میں لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15450
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 163، حدیث 359
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: رَجُلٌ مَاتَ بِخُرَاسَانَ فَنِيحَ عَلَيْهِ بِالْبَصْرَةِ أَيُعَذَّبُ؟ فَقَالَ: «صَدَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ»
ترجمہ
ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک آدمی خراسان میں مرا اور اس پر بصرہ میں نوحہ کیا گیا، کیا اسے عذاب ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: ”نبی اللہ ﷺ نے سچ فرمایا اور تو نے جھوٹ کہا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15451
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 163، حدیث 360