حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزِّيَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْفُرَاتِ، مَوْلًى لِآلِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، أَخْبَرَنِي فَرْوَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَفِيفِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذُكِرَ امْرُؤُ الْقَيْسِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ رَجُلٌ مَذْكُورٌ فِي الدُّنْيَا، مَنْسِيٌّ فِي الْآخِرَةِ، شَرِيفٌ فِي الدُّنْيَا، خَامِلٌ فِي الْآخِرَةِ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِهِ لِوَاءُ الشُّعَرَاءِ يَقُودُهُمْ إِلَى النَّارِ»
ترجمہ
… ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ امرؤ القیس کا ذکر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک ایسا آدمی ہے جو دنیا میں یاد کیا جاتا ہے، آخرت میں بھلا دیا گیا ہے، دنیا میں معزز ہے، آخرت میں ذلیل ہے، وہ قیامت کے دن اپنے ہاتھ میں شاعروں کا جھنڈا لیے آئے گا اور انہیں آگ کی طرف لے جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَوْفُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو غَسَّانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ فَرْوَةَ بْنِ عَفِيفِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ مِنَ الْيَمَنِ فَذَكَرُوا امْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ حُجْرٍ الْكِنْدِيَّ وَذَكَرُوا بَيْتَيْنِ مِنْ شِعْرِهِ فِيهِمَا ذِكْرُ صَارِخٍ مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ رَجُلٌ مَذْكُورٌ فِي الدُّنْيَا، مَنْسِيٌّ فِي الْآخِرَةِ، شَرِيفٌ فِي الدُّنْيَا، خَامِلٌ فِي الْآخِرَةِ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُ لِوَاءُ الشُّعَرَاءِ يَقُودُهُمْ إِلَى النَّارِ»
ترجمہ
… جبکہ یمن سے ایک وفد آیا اور انہوں نے امرؤ القیس بن حجر کندی کا ذکر کیا، اور اس کے شعر کے دو مصرعے بتائے جن میں عرب کے کسی پانی کے مقام پر ایک پکارنے والے کا ذکر تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک ایسا آدمی ہے جو دنیا میں یاد کیا جاتا ہے، آخرت میں بھلا دیا گیا ہے، دنیا میں معزز ہے، آخرت میں ذلیل ہے، وہ قیامت کے دن اپنے ساتھ شاعروں کا جھنڈا لیے آئے گا اور انہیں آگ کی طرف لے جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ النَّاقِدُ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ قَالَا: ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِيَاسِ بْنِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا فَوَاللهِ إِنِّي لَعِنْدَهُ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ قَرِيبًا مِنْهُ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ، فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ خَرَجْتِ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي، ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ رَاهَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ يُصَلِّي قُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي قُلْتُ: وَمَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، قُلْتُ: «مَنِ الْفَتَى؟» قَالَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ ابْنُ عَمِّهِ قُلْتُ: «وَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ؟» قَالَ: يُصَلِّي وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَهَذَا الْفَتَى ابْنُ عَمِّهِ، وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَيُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرِ، وَأَسْلَمَ عَفِيفٌ بَعْدَ ذَلِكَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ يَأْسَفُ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الْإِسْلَامِ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ
… اس خیمے سے نماز پڑھ رہا تھا، میں نے عباس سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے، میرے بھائی کا بیٹا۔ میں نے پوچھا: اور یہ عورت کون ہے؟ انہوں نے کہا: اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے۔ میں نے پوچھا: یہ نوجوان کون ہے؟ انہوں نے کہا: علی بن ابی طالب، اس کے چچا کا بیٹا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا: نماز پڑھ رہا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے، اور اس کے معاملے میں اس کی بیوی اور اس نوجوان، اس کے چچا کے بیٹے، کے سوا کسی نے اس کی پیروی نہیں کی، اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس پر کسریٰ اور قیصر کے خزانے فتح کیے جائیں گے۔ عفیف رضی اللہ عنہ بعد میں اسلام لے آئے، وہ اشعث بن قیس کے چچازاد تھے، اور اس دن جو اسلام ان سے چھوٹ گیا اس پر افسوس کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاطُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَفِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَ أَخُو ابْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ الْقَيْسِ لِأُمِّهِ قَالَ: " وَرَدْتُ مَكَّةَ لِأَبْتَاعَ لِأَهْلِي مِنْ طِيْبِهَا وعِطْرِهَا فَأَوَيْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ رَجُلًا تَاجِرًا، فَأَنَا عِنْدَهُ، وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأَنَا أَنْظُرُ إِذْ جَاءَ شَابٌّ فَقَلَّبَ بَصَرَهُ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِبَصَرِهِ قِبَلَ الْكَعْبَةِ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَ غُلَامٌ، فَقَامَ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمْ أَلْبَثْ إِذْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَامَتْ خَلْفَهُمَا وَكَبَّرَ الشَّابُّ فَكَبَّرَا، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَا، فَسَجَدَ فَسَجَدَا، قُلْتُ: يَا عَبَّاسُ أَمَرٌ عَظِيمٌ قَالَ الْعَبَّاسُ: أَمَرٌ عَظِيمٌ، هَلْ تَعْلَمِ الشَّابَّ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي، هَلْ تَعْلَمُ مَنِ الْمَرْأَةُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: هَذِهِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى سَيِّدَةُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ زَوْجُ ابْنِ أَخِي، وَهَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ ابْنُ أَخِي، زَعَمَ ابْنُ أَخِي أَنَّ رَبَّهُ رَبُّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَرَهُ بِهَذَا الدِّينِ، لَا وَاللهِ مَا أَعْرِفُ أَحَدًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ عَلَى هَذَا الدِّينِ غَيْرَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ "
ترجمہ
… وہ اشعث بن قیس کے ماں شریک بھائی تھے، کہتے ہیں: میں مکہ آیا اپنے گھر والوں کے لیے خوشبو اور عطر خریدنے، تو عباس بن عبدالمطلب کے پاس ٹھہرا، وہ تاجر آدمی تھے، تو میں ان کے پاس تھا، سورج طلوع ہو چکا تھا، میں دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک نوجوان آیا، اس نے آسمان کی طرف نظر گھمائی، پھر اپنی نظر کعبہ کی طرف موڑی، تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک لڑکا آیا اور اس کی دائیں طرف کھڑا ہو گیا، تھوڑی دیر ہی گزری کہ ایک عورت آئی اور دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی، نوجوان نے تکبیر کہی تو دونوں نے بھی تکبیر کہی، پھر رکوع کیا تو دونوں نے بھی رکوع کیا، پھر سجدہ کیا تو دونوں نے بھی سجدہ کیا۔ میں نے کہا: اے عباس! یہ بڑا معاملہ ہے۔ عباس نے کہا: بڑا معاملہ ہے، کیا تم اس نوجوان کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے، میرے بھائی کا بیٹا۔ کیا تم جانتے ہو یہ عورت کون ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: یہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہے، قریش کی عورتوں کی سردار، میرے بھتیجے کی بیوی۔ اور یہ علی بن ابی طالب ہے، میرے بھتیجے کا بیٹا۔ میرے بھتیجے کا دعویٰ ہے کہ اس کے رب، جو آسمان اور زمین کا رب ہے، نے اسے اس دین کا حکم دیا ہے۔ نہیں، اللہ کی قسم، میں روئے زمین پر ان تین کے سوا کسی کو اس دین پر نہیں جانتا۔