المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عفيف بن معدي كرب الكندي باب: سیدنا عفیف بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ النَّاقِدُ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ قَالَا: ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِيَاسِ بْنِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا فَوَاللهِ إِنِّي لَعِنْدَهُ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ قَرِيبًا مِنْهُ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ، فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ خَرَجْتِ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي، ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ رَاهَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ يُصَلِّي قُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي قُلْتُ: وَمَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، قُلْتُ: «مَنِ الْفَتَى؟» قَالَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ ابْنُ عَمِّهِ قُلْتُ: «وَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ؟» قَالَ: يُصَلِّي وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَهَذَا الْفَتَى ابْنُ عَمِّهِ، وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَيُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرِ، وَأَسْلَمَ عَفِيفٌ بَعْدَ ذَلِكَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ يَأْسَفُ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الْإِسْلَامِ يَوْمَئِذٍ… اس خیمے سے نماز پڑھ رہا تھا، میں نے عباس سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے، میرے بھائی کا بیٹا۔ میں نے پوچھا: اور یہ عورت کون ہے؟ انہوں نے کہا: اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے۔ میں نے پوچھا: یہ نوجوان کون ہے؟ انہوں نے کہا: علی بن ابی طالب، اس کے چچا کا بیٹا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا: نماز پڑھ رہا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے، اور اس کے معاملے میں اس کی بیوی اور اس نوجوان، اس کے چچا کے بیٹے، کے سوا کسی نے اس کی پیروی نہیں کی، اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس پر کسریٰ اور قیصر کے خزانے فتح کیے جائیں گے۔ عفیف رضی اللہ عنہ بعد میں اسلام لے آئے، وہ اشعث بن قیس کے چچازاد تھے، اور اس دن جو اسلام ان سے چھوٹ گیا اس پر افسوس کیا کرتے تھے۔