کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوادریس خولانی کی سیدنا عوف رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «أَلَا تُبَايِعُونِي؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً، فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ " قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: «تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا، ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيَّةً، وَعَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کیا تم میری بیعت نہیں کرتے؟“ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ، ہم تو ایک بار آپ کی بیعت کر چکے ہیں، پھر کس بات پر بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی، پھر فرمایا: ”تم اس بات پر مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، سنو اور اطاعت کرو“، پھر آپ ﷺ نے اس کے ساتھ ایک بات آہستہ سے فرمائی، ”اور یہ کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ثنا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا، مسافر کے لیے تین دن تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي خَيْمَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا مَكِينًا فَقَالَ: «يَا عَوْفُ، اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ» قُلْتُ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَوْتِي» قَالَ: فَوَجَمْتُ لَهَا قَالَ: «قُلْ إِحْدَى» قُلْتُ: إِحْدَى " وَالثَّانِيَةُ: فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَالثَّالِثَةُ: مُوتَانٌ فِيكُمْ كَنُعَاسِ الْغَنَمِ، وَالرَّابِعَةُ: إِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ يَسْخَطُهَا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتُ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ ثُمَّ يَغْدِرُونَ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، كُلُّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا "
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آپ ﷺ نے مکمل وضو کیا، پھر فرمایا: ”اے عوف! قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کرو۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہیں یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری موت۔“ تو مجھے اس بات سے بہت رنج ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو، ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ ”اور دوسری: بیت المقدس کی فتح، اور تیسری: تم میں ایک وبا پھیلے گی جیسے بکریوں میں وبا پھیلتی ہے، اور چوتھی: مال کی اتنی فراوانی کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ اسے بھی ناکافی سمجھے گا، پھر ایک فتنہ برپا ہو گا جو عرب کے ہر گھر میں داخل ہو گا، اور تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ عہد شکنی کریں گے، اور اسّی جھنڈوں تلے تمہارے پاس آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔“