حدیث نمبر: 15161
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي خَيْمَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا مَكِينًا فَقَالَ: «يَا عَوْفُ، اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ» قُلْتُ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَوْتِي» قَالَ: فَوَجَمْتُ لَهَا قَالَ: «قُلْ إِحْدَى» قُلْتُ: إِحْدَى " وَالثَّانِيَةُ: فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَالثَّالِثَةُ: مُوتَانٌ فِيكُمْ كَنُعَاسِ الْغَنَمِ، وَالرَّابِعَةُ: إِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ يَسْخَطُهَا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتُ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ ثُمَّ يَغْدِرُونَ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، كُلُّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا "
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آپ ﷺ نے مکمل وضو کیا، پھر فرمایا: ”اے عوف! قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کرو۔“ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہیں یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری موت۔“ تو مجھے اس بات سے بہت رنج ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو، ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ ”اور دوسری: بیت المقدس کی فتح، اور تیسری: تم میں ایک وبا پھیلے گی جیسے بکریوں میں وبا پھیلتی ہے، اور چوتھی: مال کی اتنی فراوانی کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ اسے بھی ناکافی سمجھے گا، پھر ایک فتنہ برپا ہو گا جو عرب کے ہر گھر میں داخل ہو گا، اور تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ عہد شکنی کریں گے، اور اسّی جھنڈوں تلے تمہارے پاس آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15161
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 40، حدیث 70