کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبدالعزیز بن ابی سعد مزنی کی سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا بُهْلُولُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: ثنا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَشْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «أَحْلِبْ لَهُمْ يَا غُلَامُ» ، فَقَامَ الْغُلَامُ إِلَى لِقْحَةٍ فَحَلَبَهَا فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لِلَّذِي عَنْ يَمِينِهِ: «اشْرَبْ» فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: «قَبْلَ اللهُ مِنْكَ وَمِنَّا» ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «أَكُلُّكُمْ صَوَّامٌ يُوشِكُ أَنْ تَتَّخِذُوا هَذَا الْيَوْمَ بِمَنْزِلَةِ رَمَضَانَ، إِنَّمَا كُنَّا نَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، فَلَمَّا فُرِضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، نَسْخَ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ، وَهَذَا الْيَوْمُ تَطَوَّعٌ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ» فَلَمَّا سَمِعَ الْقَوْمُ ذَلِكَ مِنْهُ أَفْطَرُوا جَمِيعًا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ
ترجمہ
عبداللہ بن ابی سعد بیان کرتے ہیں: ہم عاشوراء کے دن سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو انہوں نے فرمایا: اے لڑکے! ان کے لیے دودھ دوہو۔ لڑکا ایک دودھ والی اونٹنی کے پاس گیا اور اسے دوہا، پھر دودھ ان کے پاس لے آیا۔ انہوں نے اپنی دائیں جانب والے شخص سے فرمایا: پیو۔ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تم سے اور ہم سے قبول فرمائے۔ پھر دوسرے سے فرمایا تو اس نے بھی کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے اسی طرح فرمایا، پھر تیسرے سے فرمایا تو اس نے بھی ایسے ہی کہا، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم سب روزے سے ہو؟ قریب ہے کہ تم اس دن کو رمضان جیسا درجہ دینے لگو، ہم تو یہ دن اس وقت روزہ رکھتے تھے جب ہم پر رمضان فرض نہیں ہوا تھا، پھر جب ہم پر رمضان فرض ہوا تو رمضان کے روزے نے اس دن کے روزے کو منسوخ کر دیا، اور یہ دن نفلی روزے کا دن ہے، فرض نہیں، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو سب نے روزہ کھول دیا۔ (یہ الفاظ زید بن حریش کی روایت کے ہیں۔)
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15122
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 19، حدیث 31
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا: ثنا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَشْرَجٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو: «أَصَابَتْنِي رَمْيَةٌ وَأَنَا أُقَاتِلُ، بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فِي وَجْهِي، فَلَمَّا سَالَتِ الدِّمَاءُ عَلَى وَجْهِي وَلِحْيَتِي وَصَدْرِي، تَنَاوَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَسَالَ الدَّمُ عَنْ وَجْهِي وَصَدْرِي إِلَى ثَنْدُوَتَيَّ ثُمَّ دَعَا لِي» قَالَ حَشْرَجٌ: فَكَانَ يُخْبِرُنَا عَائِذٌ بِذَلِكَ فِي حَيَاتِهِ، فَلَمَّا هَلَكَ وَغَسَّلْنَاهُ نَظَرْنَا إِلَى مَا كَانَ يَصِفُ لَنَا مِنْ أَمْرِ أَثَرِ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُنْتَهَى مَا كَانَ يَقُولُ لَنَا مِنْ صَدْرِهِ، فَإِذَا غُرَّةٌ سَائِلِةٌ كَغُرَّةِ الْفَرَسِ "
ترجمہ
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جنگ حنین کے دن، جب میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لڑ رہا تھا، مجھے میرے چہرے پر ایک تیر لگا، جب خون میرے چہرے، داڑھی اور سینے پر بہنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، جس سے خون میرے چہرے اور سینے سے میری چھاتیوں تک بہہ گیا، پھر آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ حشرج کہتے ہیں: عائذ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں ہمیں یہ بات بتاتے رہتے تھے، پھر جب ان کا انتقال ہوا اور ہم نے انہیں غسل دیا تو ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کے اثر کی جو بات وہ ہمیں بتاتے تھے، وہ ویسے ہی ان کے سینے تک موجود تھی، ایک بہتی ہوئی سفیدی جیسے گھوڑے کی پیشانی کی سفیدی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15123
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 20، حدیث 32
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُلُوسِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَشْرَجٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَكَتِ امْرَأَةُ رَجُلٍ كَانَ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ الْبَاكِيَةُ؟» فَقَالُوا: فَاطِمَةُ بِنْتُ عَدِيٍّ، قَالَ: «أَنْتِ إِلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو» فَزَوَّجَهَا أَبَاهُ وَأَوْصَاهُ بِهَا
ترجمہ
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھا، جب ہم مدینہ واپس لوٹ رہے تھے تو ایک عورت رونے لگی جس کا شوہر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شہید ہو گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رونے والی کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: فاطمہ بنت عدی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا معاملہ عائذ بن عمرو کے سپرد ہے۔“ چنانچہ عائذ رضی اللہ عنہ نے اس کی شادی اپنے والد سے کر دی اور انہیں اس کے بارے میں وصیت کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15124
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 21، حدیث 33