حدیث نمبر: 15122
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا بُهْلُولُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: ثنا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَشْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «أَحْلِبْ لَهُمْ يَا غُلَامُ» ، فَقَامَ الْغُلَامُ إِلَى لِقْحَةٍ فَحَلَبَهَا فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لِلَّذِي عَنْ يَمِينِهِ: «اشْرَبْ» فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: «قَبْلَ اللهُ مِنْكَ وَمِنَّا» ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «أَكُلُّكُمْ صَوَّامٌ يُوشِكُ أَنْ تَتَّخِذُوا هَذَا الْيَوْمَ بِمَنْزِلَةِ رَمَضَانَ، إِنَّمَا كُنَّا نَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، فَلَمَّا فُرِضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، نَسْخَ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ، وَهَذَا الْيَوْمُ تَطَوَّعٌ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ» فَلَمَّا سَمِعَ الْقَوْمُ ذَلِكَ مِنْهُ أَفْطَرُوا جَمِيعًا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ
ترجمہ

عبداللہ بن ابی سعد بیان کرتے ہیں: ہم عاشوراء کے دن سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو انہوں نے فرمایا: اے لڑکے! ان کے لیے دودھ دوہو۔ لڑکا ایک دودھ والی اونٹنی کے پاس گیا اور اسے دوہا، پھر دودھ ان کے پاس لے آیا۔ انہوں نے اپنی دائیں جانب والے شخص سے فرمایا: پیو۔ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تم سے اور ہم سے قبول فرمائے۔ پھر دوسرے سے فرمایا تو اس نے بھی کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے اسی طرح فرمایا، پھر تیسرے سے فرمایا تو اس نے بھی ایسے ہی کہا، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم سب روزے سے ہو؟ قریب ہے کہ تم اس دن کو رمضان جیسا درجہ دینے لگو، ہم تو یہ دن اس وقت روزہ رکھتے تھے جب ہم پر رمضان فرض نہیں ہوا تھا، پھر جب ہم پر رمضان فرض ہوا تو رمضان کے روزے نے اس دن کے روزے کو منسوخ کر دیا، اور یہ دن نفلی روزے کا دن ہے، فرض نہیں، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو سب نے روزہ کھول دیا۔ (یہ الفاظ زید بن حریش کی روایت کے ہیں۔)

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15122
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 19، حدیث 31