حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ الْعَتَبِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ قَيْسٍ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عَمِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ رِمْثَةَ الْبَلَوِيِّ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: «رَحِمَ اللهُ عَمْرًا» فَتَذَاكَرْنَا مَنِ اسْمُهُ عَمْرٌو، ثُمَّ نَعَسَ ثَانِيَةً، فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ عَمْرًا» ، ثُمَّ نَعَسَ ثَالِثَةً فَاسْتَيْقَظَ " فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ عَمْرًا» قُلْنَا: مَنْ عَمْرُو يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ» قَالُوا: وَمَا بَالُهُ؟ قَالَ: " ذَكَرْتُهُ إِنِّي كُنْتُ إِذَا نَدَبْتُ النَّاسَ لِلصَّدَقَةِ جَاءَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَجْزَلَ فَأَقُولُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا عَمْرُو؟ فَيَقُولُ: مِنْ عِنْدِ اللهِ، وَصَدَقَ عَمْرٌو، إِنَّ لِعَمْرٍو عِنْدَ اللهِ خَيْرًا كَثِيرًا " قَالَ زُهَيْرٌ: فَلَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ قُلْتُ: أَتَّبِعُ هَذَا قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ مَا قَالَ، فَلَمْ أُفَارِقْهُ "
ترجمہ
پھر رسول اللہ ﷺ ایک سریہ میں نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آئی، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عمرو پر رحم فرمائے۔“ ہم آپس میں یہ سوچنے لگے کہ کس کا نام عمرو ہے۔ پھر آپ کو دوسری بار اونگھ آئی، بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عمرو پر رحم فرمائے۔“ پھر تیسری بار اونگھ آئی، بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عمرو پر رحم فرمائے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عمرو کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمرو بن العاص۔“ ہم نے عرض کیا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ان کی یاد آئی، میں جب لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دیتا تو عمرو کی طرف سے بہت زیادہ صدقہ آتا، تو میں پوچھتا: اے عمرو! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتے: اللہ کی طرف سے۔ اور عمرو نے سچ کہا، عمرو کے لیے اللہ کے ہاں بہت بھلائی ہے۔“ زہیر کہتے ہیں: جب فتنہ برپا ہوا تو میں نے کہا: کیا میں اس شخص کی پیروی کروں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا؟ چنانچہ میں نے اسے نہ چھوڑا۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ قَيْسٍ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ رِمْثَةَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ
ترجمہ
سیدنا علقمہ بن رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا، اور نبی کریم ﷺ خود بھی نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے … اور آگے لیث کی روایت جیسی حدیث بیان کی جو اوپر مذکور ہوئی۔