کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن عامر کی سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حِبَّانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ وَلَا يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعِيرِ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو پردہ کرے اور گدھے کی طرح برہنہ نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَأْمُرُ بِتَغْيِيرِ الشَّعْرِ مُخَالَفَةً لِلْأَعَاجِمِ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ عجمیوں کی مخالفت میں بالوں کو بدلنے (یعنی خضاب لگانے) کا حکم دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ الْأَلْهَانِيُّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ ح، وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شيران الرامهرمزي، ثَنَا رُزَيْقُ بْنُ السَّخْتِ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَلْهَانِيُّ، ثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، وَعُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، حَدَّثَاهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمّ ثَبَتَ فِي الْمَسْجِدِ يُسَبِّحُ اللهَ سُبْحَةَ الضُّحَى، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ تَامًّا لَهُ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ»
ترجمہ
عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوامامہ اور سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے، پھر مسجد میں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ چاشت کی نفل نماز پڑھے، تو اسے حج اور عمرہ کرنے والے کی طرح اجر ملے گا، اس کا حج اور عمرہ مکمل۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَذْكُرُ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً لَا أعْلَمُ أَكْثَرَ شَوْكًا مِنْهَا - يَعْنِي الطَّلْحَ - فَقَالَ: «التَّيْسُ المَلْبُودُ - يَعْنِي الْخَصِيَّ - فِيهَا سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطَّعَامِ لَا يُشْبِهُ لَوْنٌ آخَرَ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک بدوی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو جنت میں ایک ایسے درخت کا ذکر کرتے سنتا ہوں جس سے زیادہ کانٹے دار میں کوئی درخت نہیں جانتا - اس کی مراد طلح (کیکر) کا درخت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اس میں) گھنی جمی ہوئی اون والے بکرے - یعنی خصی بکرے - (جیسے پھل ہوں گے)، اس میں کھانے کے ستر رنگ ہوں گے، کوئی رنگ دوسرے سے مشابہ نہیں ہو گا۔“