حدیث نمبر: 14390
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَذْكُرُ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً لَا أعْلَمُ أَكْثَرَ شَوْكًا مِنْهَا - يَعْنِي الطَّلْحَ - فَقَالَ: «التَّيْسُ المَلْبُودُ - يَعْنِي الْخَصِيَّ - فِيهَا سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطَّعَامِ لَا يُشْبِهُ لَوْنٌ آخَرَ»
ترجمہ

سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک بدوی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو جنت میں ایک ایسے درخت کا ذکر کرتے سنتا ہوں جس سے زیادہ کانٹے دار میں کوئی درخت نہیں جانتا - اس کی مراد طلح (کیکر) کا درخت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(وہ جنت میں) اون کی طرح گھنے بکرے جیسا (گھنا درخت ہو گا)، اس میں کھانے کے ستر رنگ ہوں گے، کوئی رنگ دوسرے سے مشابہ نہیں ہو گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14390
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 130، حدیث 318