المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد ذو مصر، عن عتبة بن عبد باب: یزید ذومصر کی سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيِّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ ذُو مِصْرَ قَالَ: أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ، إنِّي خَرَجْتُ ألْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِهْتُهَا فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: ألَا جِئْتَنِي أُضَحِّي بِهَا؟ قُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ لَا تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي؟ قَالَ: نَعَمْ لِأَنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ إِنَّمَا «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُصْفَرَةِ، وَالْمُسْتَأْصَلَةِ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهَا، وَالْبَخْقَاءِ الَّتِي بَخَقَتْ عَيْنُهَا، وَالْمُشَيِّعَةِ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَرَجًا وَضَعْفًا، وَالْكَسْرَاءِ الْكَسِيرَةِ»یزید ذو مصر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابوالولید! میں قربانی کے جانور تلاش کر رہا تھا، مجھے دانت ٹوٹی ہوئی بکری کے سوا کچھ نہ ملا، مجھے وہ ناپسند ہوئی، تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اسے میرے پاس کیوں نہ لے آئے کہ میں اس کی قربانی کر دیتا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ نہ تمہاری طرف سے جائز ہو گی اور نہ میری طرف سے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیونکہ تمہیں شک ہے اور مجھے شک نہیں، بس رسول اللہ ﷺ نے اس جانور سے جس کا کان جڑ سے کٹا ہوا ہو، جس کا سینگ جڑ سے اکھڑا ہو، جس کی آنکھ پھوٹی ہو، جو کمزوری اور لنگڑاہٹ کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل سکے، اور جس کی ٹانگ ٹوٹی ہو - ان عیب دار جانوروں سے منع فرمایا تھا۔