کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: حسن بن سعد، حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَكَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَفٌ وَحَائِطُ نَخْلٍ، فَدَخَلَ حَائِطَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا جَمَلٌ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ، فَسَكَنَ، ثُمَّ قَالَ: «لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟» ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَهُ: «أَفَلَا تَتَّقِي اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللهُ إِيَّاهَا، فَإِنَّهُ شَكَاكَ إِلَيَّ، إِنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ … اچانک ایک اونٹ نظر آیا، جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، تو نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کی کوہان اور کان کے پیچھے کی جگہ پر ہاتھ پھیرا تو وہ ساکت ہو گیا، پھر فرمایا: ”یہ اونٹ کس کا ہے؟“ تو انصار میں سے ایک نوجوان آیا اور عرض کیا: یہ میرا ہے، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے حد سے زیادہ کام لیتے ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 78، حدیث 193
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمِنْقَرِيُّ، قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا: «وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَإِنْ قُتِلَ، أَوِ اسْتُشْهِدَ، فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ» ، فَانْطَلَقُوا فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، أَوِ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، فأتى خبرهم إلى النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فخرج فرقي المنبر، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقَوُا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ» ، ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ، ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: «لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ بَعْدَ الْيَوْمِ» ، ثُمَّ قَالَ «ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي» ، فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: «ادْعُوا لِيَ الْحَلَّاقَ» ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا عَوْنُ عَبْدِ اللهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي» ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَالَهَا، فَقَالَ: «اللهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ، وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ» ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ يُتْمَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُيلَْةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ، وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، اور فرمایا: ”اگر وہ قتل ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تمہارے امیر جعفر بن ابی طالب ہوں گے، اور اگر وہ قتل ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تمہارے امیر عبداللہ بن رواحہ ہوں گے۔“ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور دشمن سے جا ملے، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے، پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا، تو اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔ ان کی خبر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ ﷺ باہر نکلے اور منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد، تمہارے بھائی دشمن سے جا ملے، تو زید بن حارثہ نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے یا شہید ہو گئے، پھر جعفر نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے یا شہید ہو گئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے یا شہید ہو گئے، پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار، خالد بن ولید نے جھنڈا سنبھال لیا، تو اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔“ پھر آپ ﷺ نے آلِ جعفر کو تین دن تک اپنے پاس آنے کی مہلت دی، پھر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج کے بعد اس پر نہ رو۔“ پھر فرمایا: ”میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ۔“ چنانچہ ہمیں لایا گیا، گویا ہم چڑیوں کے بچے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حجام کو میرے پاس بلاؤ۔“ تو اسے حکم دیا اور اس نے ہمارے سر مونڈ دیے، پھر فرمایا: ”رہے محمد تو وہ ہمارے چچا ابوطالب سے مشابہ ہیں، اور رہا عبداللہ کا بیٹا عون تو وہ میری صورت اور میرے اخلاق سے مشابہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اسے اٹھایا اور فرمایا: ”اے اللہ، جعفر کا اس کے گھر والوں میں اچھا قائم مقام بن، اور عبداللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ کہتے ہیں: پھر ہماری ماں آئیں اور انہوں نے ہمارے یتیم ہونے کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ان پر تنگ دستی کا خوف ہے، جبکہ دنیا اور آخرت میں ان کا ولی میں ہوں؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13791
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 79، حدیث 194