حدیث نمبر: 13790
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَكَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَفٌ وَحَائِطُ نَخْلٍ، فَدَخَلَ حَائِطَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا جَمَلٌ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ، فَسَكَنَ، ثُمَّ قَالَ: «لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟» ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَهُ: «أَفَلَا تَتَّقِي اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللهُ إِيَّاهَا، فَإِنَّهُ شَكَاكَ إِلَيَّ، إِنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ … اچانک ایک اونٹ نظر آیا، جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، تو نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کی کوہان اور کان کے پیچھے کی جگہ پر ہاتھ پھیرا تو وہ ساکت ہو گیا، پھر فرمایا: ”یہ اونٹ کس کا ہے؟“ تو انصار میں سے ایک نوجوان آیا اور عرض کیا: یہ میرا ہے، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے حد سے زیادہ کام لیتے ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 78، حدیث 193