کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوجعفر محمد بن علی بن حسین کی سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے مرویات
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثنا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بَعْدَ مَا سُمَّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زہر دیے جانے کے بعد پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْمَدِينِ، حَتَّى يَقْضِيَ دِينَهُ، مَا لَمْ يَكُنْ دِينُهُ فِيمَا يَكْرَهُ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب تک اس کا قرض ان چیزوں میں نہ ہو جو اللہ کو ناپسند ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلِّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ، فَقَالَ: «يَا فَتَى أَلَا أَهَبُ لَكَ؟، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِنَّ؟، احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَسَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ، وَاعْلَمْ أَنْ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوْ أَرَادُوكَ بِشَىءٍ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے پیچھے سوار کیا، پھر فرمایا: ”اے نوجوان، کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن سے اللہ تمہیں نفع دے؟ اللہ کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، اور جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو، اور جان لو کہ قلم اس چیز کے ساتھ خشک ہو چکا ہے جو ہونے والی ہے، اور جان لو کہ اگر ساری مخلوق تمہیں کوئی ایسی چیز پہنچانا چاہے جو تمہارے لیے مقدر میں نہیں لکھی گئی تو وہ ایسا نہیں کر سکتی، اور جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے، اور کشادگی تنگی کے ساتھ ہے، اور یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔“