کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی مسند میں سے جو ہم تک پہنچا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ، وَلَا نَصَبَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موتی کے ایک گھر کی خوشخبری دوں، جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تھکاوٹ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13776
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 72، حدیث 179
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: «أَنَّهُمَا أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا ابْنَا سَبْعِ سِنِينَ، فَلَمَّا رَآهُمَا تَبَسَّمَ وَمَدَّ يَدَهُ فَبَايَعَهُمَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ وہ دونوں سات سات سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں دیکھ کر مسکرا کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور ان دونوں سے بیعت لی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13777
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 73، حدیث 180
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُجِيبُوهُ فَانْصَرَفَ، فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟، إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي، أَمْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي، إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانًا عَلَيَّ، فَلَا أُبَالِي، إِنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمَرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَكَ، أَوْ تُحِلَّ عَلَيَّ سَخَطَكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ابوطالب فوت ہو گئے تو نبی کریم ﷺ اپنے قدموں پر پیدل طائف کی طرف نکلے، آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو آپ ﷺ واپس ہوئے اور ایک درخت کے سائے میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”اے اللہ، میں تیرے ہی حضور اپنی کمزوری، اپنی بے سر و سامانی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے وقعتی کی شکایت کرتا ہوں، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے، تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے، تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے؟ کیا کسی اجنبی کے حوالے جو مجھ پر ترش روئی اختیار کرے؟ یا کسی قریبی کے حوالے جسے تو نے میرا اختیار دے دیا ہو؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں، البتہ تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور جس پر دنیا و آخرت کا معاملہ درست ہوتا ہے، اس بات سے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے، یا مجھ پر اپنی ناراضی اتارے، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے، اور تیری ہی توفیق کے بغیر کوئی طاقت نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13778
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 73، حدیث 181
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو تربوز تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے دیکھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13779
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 73، حدیث 182