المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما انتهى إلينا من مسند عبد الله بن جعفر باب: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی مسند میں سے جو ہم تک پہنچا
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُجِيبُوهُ فَانْصَرَفَ، فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟، إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي، أَمْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي، إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانًا عَلَيَّ، فَلَا أُبَالِي، إِنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمَرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَكَ، أَوْ تُحِلَّ عَلَيَّ سَخَطَكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ»سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ابوطالب فوت ہو گئے تو نبی کریم ﷺ اپنے قدموں پر پیدل طائف کی طرف نکلے، آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو آپ ﷺ واپس ہوئے اور ایک درخت کے سائے میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”اے اللہ، میں تیرے ہی حضور اپنی کمزوری، اپنی بے سر و سامانی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے وقعتی کی شکایت کرتا ہوں، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے، تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے، تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے؟ کیا کسی اجنبی کے حوالے جو مجھ پر ترش روئی اختیار کرے؟ یا کسی قریبی کے حوالے جسے تو نے میرا اختیار دے دیا ہو؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں، البتہ تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور جس پر دنیا و آخرت کا معاملہ درست ہوتا ہے، اس بات سے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے، یا مجھ پر اپنی ناراضی اتارے، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے، اور تیری ہی توفیق کے بغیر کوئی طاقت نہیں۔“