کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوعشانہ کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَلُولٍ، قَالَ: ثنا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجِذَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجِذَامِيُّ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيُّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟» ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ رَبَّنَا نَحْنُ مَلَائِكَتُكَ وَخَزَنَتُكَ وَسُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ لَا تُدْخِلْهُمُ الْجَنَّةَ قَبْلَنَا، فَيَقُولُ: عِبَادِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ، لَمْ يَسْتَطِعْ لَهَا قَضَاءً، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} [الرعد: ٢٤] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین میں سے وہ فقراء جن کے ذریعے دوسروں سے مصیبتیں ٹالی جاتی ہیں، ان میں سے کوئی مرتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے ہی میں رہ جاتی ہے، وہ اسے پورا نہیں کر پاتا۔ فرشتے کہیں گے: اے ہمارے رب، ہم تیرے فرشتے، تیرے خزانچی اور تیرے آسمانوں کے باسی ہیں، انہیں ہم سے پہلے جنت میں داخل نہ کر۔ تو اللہ فرمائے گا: یہ میرے وہ بندے ہیں جو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، ان کے ذریعے مصیبتیں ٹالی جاتی تھیں، ان میں سے کوئی مرتا تو اس کی ضرورت اس کے سینے ہی میں رہ جاتی، وہ اسے پورا نہ کر پاتا۔ اس وقت فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے: ’تم پر سلامتی ہو، اس صبر کے بدلے جو تم نے کیا، پس کیا ہی اچھا ہے اس گھر کا انجام‘ [سورۃ الرعد: 24]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13748
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 61، حدیث 151
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحُ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَوَّلُ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، إِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا، وَإِنْ كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى سُلْطَانٍ لَمْ تُقْضَ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا، فَيَقُولُ: أَيْنَ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِي ادْخُلُوا بِغَيْرِ عَذَابٍ وَلَا حِسَابٍ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَسْجُدُونَ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا نَحْنُ نُسَبِّحُكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَنُقَدِّسُ لَكَ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا؟، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ ذِكْرُهُ: هَؤُلَاءِ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} [الرعد: ٢٤] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ مہاجرین میں سے وہ فقراء ہوں گے جن کے ذریعے مصیبتیں ٹالی جاتی ہیں، جب انہیں حکم دیا جاتا تو وہ سنتے اور اطاعت کرتے، اور اگر ان میں سے کسی کو کسی حکمران سے کوئی ضرورت ہوتی تو وہ پوری نہ ہوتی یہاں تک کہ وہ مر جاتا اور وہ ضرورت اس کے سینے ہی میں رہتی۔ بے شک اللہ عزوجل قیامت کے دن جنت کو بلائے گا، تو وہ اپنی رونق اور زینت کے ساتھ آئے گی، تو اللہ فرمائے گا: میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے میری راہ میں جنگ کی، میری راہ میں ایذا اٹھائی اور میری راہ میں جہاد کیا؟ بغیر عذاب اور بغیر حساب کے داخل ہو جاؤ۔ اور فرشتے آئیں گے اور سجدہ کریں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب، ہم دن رات تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس بیان کرتے ہیں، یہ کون ہیں جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی؟ تو رب جل ذکرہ فرمائے گا: یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جنگ کی، میری راہ میں ایذا اٹھائی اور میری راہ میں جہاد کیا۔ تو فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے: ’تم پر سلامتی ہو، اس صبر کے بدلے جو تم نے کیا، پس کیا ہی اچھا ہے اس گھر کا انجام‘ [سورۃ الرعد: 24]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13749
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 61، حدیث 152