حدیث نمبر: 13749
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحُ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَوَّلُ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، إِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا، وَإِنْ كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى سُلْطَانٍ لَمْ تُقْضَ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا، فَيَقُولُ: أَيْنَ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِي ادْخُلُوا بِغَيْرِ عَذَابٍ وَلَا حِسَابٍ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَسْجُدُونَ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا نَحْنُ نُسَبِّحُكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَنُقَدِّسُ لَكَ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا؟، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ ذِكْرُهُ: هَؤُلَاءِ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} [الرعد: ٢٤] "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ مہاجرین میں سے وہ فقراء ہوں گے جن کے ذریعے مصیبتیں ٹالی جاتی ہیں، جب انہیں حکم دیا جاتا تو وہ سنتے اور اطاعت کرتے، اور اگر ان میں سے کسی کو کسی حکمران سے کوئی ضرورت ہوتی تو وہ پوری نہ ہوتی یہاں تک کہ وہ مر جاتا اور وہ ضرورت اس کے سینے ہی میں رہتی۔ بے شک اللہ عزوجل قیامت کے دن جنت کو بلائے گا، تو وہ اپنی رونق اور زینت کے ساتھ آئے گی، تو اللہ فرمائے گا: میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے میری راہ میں جنگ کی، میری راہ میں ایذا اٹھائی اور میری راہ میں جہاد کیا؟ بغیر عذاب اور بغیر حساب کے داخل ہو جاؤ۔ اور فرشتے آئیں گے اور سجدہ کریں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب، ہم دن رات تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس بیان کرتے ہیں، یہ کون ہیں جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی؟ تو رب جل ذکرہ فرمائے گا: یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جنگ کی، میری راہ میں ایذا اٹھائی اور میری راہ میں جہاد کیا۔ تو فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے: ’تم پر سلامتی ہو، اس صبر کے بدلے جو تم نے کیا، پس کیا ہی اچھا ہے اس گھر کا انجام‘ [سورۃ الرعد: 24]۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13749
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 61، حدیث 152