حدیث نمبر: 13747
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُحِبُّ الْجِهَادَ وَالْعُمْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ وَالِدَانِ؟» ، قَالَ: نَعَمْ كِلَاهُمَا، قَالَ: «فَارْجِعْ فَأَكْثِرْ صَحَابَتَهُمَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے جہاد اور عمرہ پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے والدین ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، دونوں زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو واپس جاؤ اور ان کی خدمت میں کثرت سے وقت گزارو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13747
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 60، حدیث 150