کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: یزید بن رباح کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، قَالَ: ثنا أحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ، وَالرُّومِ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟» ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَكُونُ كَمَا أَمَرَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، تَتَنَافَسُونَ ثُمَّ تَحَاسَدُونَ ثُمَّ تَدَابَرُونَ، وَتَبَاغَضُونَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ إِلَى مَسَاكِنِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى، رِقَابِ بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم پر فارس اور روم کے خزانے فتح کر دیے جائیں گے تو تم کیسے لوگ ہو گے؟“ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی ہوں گے جیسا اللہ نے حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یا اس کے علاوہ، تم ایک دوسرے پر رشک کرو گے، پھر حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر لو گے، اور بغض رکھو گے، یا اسی جیسا کچھ ہوگا، پھر تم مہاجرین کی بستیوں کی طرف چلو گے اور ان میں سے کچھ کو کچھ کی گردنوں پر بٹھا دو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13729
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 53، حدیث 132
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَنَانٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رَبَاحٍ أَبِي فِرَاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «صَامَ نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ الدَّهْرَ، إِلَّا يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى. وَصَامَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نِصْفَ الدَّهْرِ. وَصَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَامَ الدَّهْرَ، وَأَفْطَرَ الدَّهْرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں کے سوا ساری زندگی روزہ رکھا، اور داود علیہ السلام نے آدھی زندگی روزہ رکھا، اور ابراہیم علیہ السلام نے ہر مہینے تین دن روزہ رکھا، اس طرح انہوں نے گویا ساری زندگی روزہ رکھا اور ساری زندگی روزہ نہ رکھنے کا بھی حق ادا کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13730
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 54، حدیث 133