کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: محمد بن منکدر کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ {وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الأنعام: ٩١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ: الْمِنْبَرُ هَكَذَا وَهَكَذَا - يَعْنِي ارْتَجَّ الْمِنْبَرُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر یہ آیت پڑھی: ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسی اس کی قدر کرنی چاہیے تھی“ [سورۃ الانعام: 91] آخر آیت تک، تو منبر اس طرح اور اس طرح ہلنے لگا - یعنی منبر جھوم اٹھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَادَ أَعْمَى أَرْبَعِينَ خُطْوَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی نابینا کو چالیس قدم چلائے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: لَقِيَ لَاقٍ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ عَلَى نَابٍ جَمْعَاءَ لَا تَسْوَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى هَذِهِ تَحُجُّ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدَعِ الْحَجَّ، وَلَوْ عَلَى نَابٍ جَمْعَاءَ تَسْوَى عَشْرَةَ دَرَاهِمَ» فَوَاللهِ مَا حَضَرَنِي مِنْ ظَهْرِي غَيْرُهَا، وَمَا كُنْتُ لِأَدَعَ الْحَجَّ
ترجمہ
…ایک ملاقاتی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا جبکہ وہ ایک ایسی پوری دانتوں والی اونٹنی پر تھے جو دس درہم کی بھی نہیں تھی، تو اس نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ اسی پر حج کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”حج کو مت چھوڑو، خواہ ایک ایسی پوری دانتوں والی اونٹنی پر ہی کیوں نہ ہو جو دس درہم کی ہو۔“ اللہ کی قسم! میرے پاس سواری میں سے اس کے سوا کچھ حاضر نہ تھا، اور میں حج نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ فُلَيْحٍ الْمَكِّيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، سُبْحَانَكَ اللهُمَّ بِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو فرماتے: ”میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ پاک ہے تو اے اللہ! تیری ہی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ بےشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“