المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن المنكدر، عن ابن عمر باب: محمد بن منکدر کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13266
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: لَقِيَ لَاقٍ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ عَلَى نَابٍ جَمْعَاءَ لَا تَسْوَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى هَذِهِ تَحُجُّ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدَعِ الْحَجَّ، وَلَوْ عَلَى نَابٍ جَمْعَاءَ تَسْوَى عَشْرَةَ دَرَاهِمَ» فَوَاللهِ مَا حَضَرَنِي مِنْ ظَهْرِي غَيْرُهَا، وَمَا كُنْتُ لِأَدَعَ الْحَجَّترجمہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک ملاقاتی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی، اس وقت وہ ایک ایسی بوڑھی اونٹنی پر سوار تھے جو دس درہم کی بھی نہ ہو۔ اس نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ اسی پر حج کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”حج مت چھوڑو، خواہ ایسی اونٹنی پر ہی کیوں نہ ہو جو دس درہم کی ہو۔“ اللہ کی قسم! میرے پاس اس کے سوا کوئی سواری موجود نہیں تھی، اور میں حج چھوڑنے والا نہ تھا۔