حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»
ترجمہ
ابو مجلز کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”رات کے آخری حصے میں ایک رکعت پڑھو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْحَصَى فَقَالَ: «مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ»
ترجمہ
ابو مجلز کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں (رمی جمار) کے بارے میں کچھ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ التَّسْنِيمِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يُقَدِّمُ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ» ، فَكَانُوا يَشْرَبُونَهَا مَا لَمْ يَحْضُرُوا الصَّلَاةُ، وَكَانُوا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ كَفُّوا عَنْهَا، وَكَانَ السُّكْرُ مِنْهَا عَلَيْهِمْ حَرَامٌ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، تَحْرِيمَهَا فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَهِيَ حَرَامُ قَلِيلُهَا، وَكَثِيرُهَا مَا أَسْكَرَ مِنْهَا مَا لَمْ يُسْكِرْ
{وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ} [النساء: ٤٣] ، «فَرَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا، وَهُوَ جُنُبٌ لَا يَجِدُ مَاءً أَنْ يَتَيَمَّمَ، وَيُصَلِّيَ»
{وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ} [النساء: ٤٣] ، «فَرَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا، وَهُوَ جُنُبٌ لَا يَجِدُ مَاءً أَنْ يَتَيَمَّمَ، وَيُصَلِّيَ»
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی کہ جب شراب کی تدریجی حرمت کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ شراب کی حرمت میں تدریج اختیار فرما رہا ہے۔“ چنانچہ لوگ اسے پیتے رہے جب تک نماز کا وقت نہ آتا، اور جب نماز کا وقت آتا تو وہ اس سے رک جاتے، اور اس سے نشہ کرنا ان پر حرام تھا۔ پھر اللہ عزوجل نے سورۃ المائدہ میں اس کی مکمل حرمت نازل فرمائی، چنانچہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے - جو نشہ آور ہو اور جو نہ ہو، سب۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اور نہ جنابت کی حالت میں سوائے مسافر کے“ [سورۃ النساء: 43] کے بارے میں: اس نے مسافر کو یہ رخصت دی کہ اگر وہ سفر میں ہو اور جنبی ہو اور پانی نہ پائے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اور نہ جنابت کی حالت میں سوائے مسافر کے“ [سورۃ النساء: 43] کے بارے میں: اس نے مسافر کو یہ رخصت دی کہ اگر وہ سفر میں ہو اور جنبی ہو اور پانی نہ پائے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ التَّسْنِيمِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی حدیث کی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَايَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا (بڑا) جھنڈا سیاہ تھا، اور آپ ﷺ کا (چھوٹا) پرچم سفید تھا۔