حدیث نمبر: 12851
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ التَّسْنِيمِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يُقَدِّمُ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ» ، فَكَانُوا يَشْرَبُونَهَا مَا لَمْ يَحْضُرُوا الصَّلَاةُ، وَكَانُوا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ كَفُّوا عَنْهَا، وَكَانَ السُّكْرُ مِنْهَا عَلَيْهِمْ حَرَامٌ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، تَحْرِيمَهَا فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَهِيَ حَرَامُ قَلِيلُهَا، وَكَثِيرُهَا مَا أَسْكَرَ مِنْهَا مَا لَمْ يُسْكِرْ
{وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ} [النساء: ٤٣] ، «فَرَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا، وَهُوَ جُنُبٌ لَا يَجِدُ مَاءً أَنْ يَتَيَمَّمَ، وَيُصَلِّيَ»
ترجمہ

قتادہ بیان کرتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی کہ جب شراب کی تدریجی حرمت کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ شراب کی حرمت میں تدریج اختیار فرما رہا ہے۔“ چنانچہ لوگ اسے پیتے رہے جب تک نماز کا وقت نہ آتا، اور جب نماز کا وقت آتا تو وہ اس سے رک جاتے، اور اس سے نشہ کرنا ان پر حرام تھا۔ پھر اللہ عزوجل نے سورۃ المائدہ میں اس کی مکمل حرمت نازل فرمائی، چنانچہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے - جو نشہ آور ہو اور جو نہ ہو، سب۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اور نہ جنابت کی حالت میں سوائے مسافر کے“ [سورۃ النساء: 43] کے بارے میں: اس نے مسافر کو یہ رخصت دی کہ اگر وہ سفر میں ہو اور جنبی ہو اور پانی نہ پائے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12851
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 206، حدیث 12907