حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ قَيْسٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب افطار کرتے تو فرماتے: ”تیرے لیے میں نے روزہ رکھا اور تیرے دیے ہوئے رزق سے افطار کیا، تو مجھ سے (یہ روزہ) قبول فرما، بےشک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا أَوْرَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ فِي بَيْضَاءَ إِلَّا مَا بَيْنَ دَفَّتَيْهِ فَقُمْتُ إِلَى قَائِمِ سَيْفِهِ , فَوَجَدْتُ فِي حَمَائِلِ سَيْفِهِ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا: «مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ مَوْلًى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سونا چاندی وراثت میں نہیں دیا، سوائے اس کے جو ان کی تلوار کے دونوں پہلوؤں کے درمیان تھا۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں آپ ﷺ کی تلوار کے قبضے کی طرف گیا تو آپ ﷺ کی تلوار کے پٹے میں ایک صحیفہ (تحریر) پایا جس میں لکھا تھا: ”جس نے کوئی نئی بات (بدعت) ایجاد کی، یا کسی بدعتی کو پناہ دی، یا اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف نسب جوڑا، یا اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی ولاء اختیار کی، تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“