کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عمیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمَنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ» ثُمَّ قَرَأَ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] ، حَتَّى بَلَغَ، {وَبَنَاتُ الْأُخْتِ} [النساء: ٢٣] ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا النَّسَبُ» . ثُمَّ قَرَأَ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ} [النساء: ٢٣] ، حَتَّى بَلَغَ، {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ} [النساء: ٢٣] ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٢] فَقَالَ: «هَذَا الصِّهْرُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام ہیں، اور سسرالی رشتے کی وجہ سے بھی سات حرام ہیں“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں...“ [سورۃ النساء: 23] یہاں تک کہ ”اور بھانجیاں“ [سورۃ النساء: 23] تک پہنچے، پھر فرمایا: ”یہ نسب کی حرمت ہے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ”اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا“ [سورۃ النساء: 23] یہاں تک کہ ”اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرو“ [سورۃ النساء: 23] تک پہنچے، پھر یہ آیت تلاوت کی: ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں“ [سورۃ النساء: 22]، پھر فرمایا: ”یہ سسرالی رشتے کی حرمت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12170
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 431، حدیث 12222
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّائِفِ نَزَلَ الْجِعْرَانَةَ فَقَسَمَ بِهَا الْغَنَائِمَ، ثُمَّ اعْتَمَرَ مِنْهَا وَذَلِكَ لِلَيْلَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ شَوَّالٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ طائف سے واپس تشریف لائے تو جعرانہ میں قیام کیا اور وہاں مالِ غنیمت تقسیم کیا، پھر وہاں سے عمرہ کیا، اور یہ شوال کی دو راتیں باقی رہ جانے پر تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12171
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 431، حدیث 12223