حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَرْبهاريُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَرَّبَ نِسَاءَهُ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ الزِّحَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات ہجوم سے پہلے اپنی ازواج کو (آگے) روانہ کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُقَدِّمُ الْعِيَالَ، وَالضَّعَفَةَ إِلَى مِنًى مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اہل و عیال اور کمزوروں کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف پہلے بھیج دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْعَبَّاسِ كَانَ يَقُولُ: مَا الْإِناخةُ بِالْمُحَصَّبِ شَيْئًا، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا انْتَظَرَ بِهِ عَائِشَةَ حَتَّى تَأْتِيَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: محصب میں پڑاؤ ڈالنا کوئی (خاص شرعی) چیز نہیں، رسول اللہ ﷺ نے تو صرف اس لیے وہاں انتظار کیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آ جائیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبَرَةِ وَهُوَ عَلَى طَرِيقِهَا الْأَوَّلِ أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوِ الظَّهِيرَةِ فَقَالَ: «نِعْمَ الْمَقْبَرَةُ هَذِهِ» قُلْتُ لِلَّذِي يُخْبِرُنِي: خَصَّ الشِّعْبَ؟ قَالَ: هَكَذَا كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ بِالْبَيْتِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ قبرستان کے قریب پہنچے اور آپ ﷺ اپنے پہلے راستے پر تھے تو آپ ﷺ نے ضفیرہ (یا: ظہیرہ) کے پیچھے اشارہ کیا اور فرمایا: ”یہ کیا ہی اچھا قبرستان ہے۔“ میں نے اپنے راوی سے پوچھا: کیا آپ ﷺ نے (بیت اللہ کے سامنے والی) گھاٹی کو خاص طور پر مراد لیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم نے یہی سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے سامنے والی گھاٹی کو خاص طور پر مراد لیا تھا۔