المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الزبير، عن ابن عباس باب: ابوزبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11235
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبَرَةِ وَهُوَ عَلَى طَرِيقِهَا الْأَوَّلِ أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوِ الظَّهِيرَةِ فَقَالَ: «نِعْمَ الْمَقْبَرَةُ هَذِهِ» قُلْتُ لِلَّذِي يُخْبِرُنِي: خَصَّ الشِّعْبَ؟ قَالَ: هَكَذَا كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ بِالْبَيْتِ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ قبرستان کے قریب پہنچے اور آپ ﷺ اپنے پہلے راستے پر تھے تو آپ ﷺ نے ضفیرہ (یا: ظہیرہ) کے پیچھے اشارہ کیا اور فرمایا: ”یہ کیا ہی اچھا قبرستان ہے۔“ میں نے اپنے راوی سے پوچھا: کیا آپ ﷺ نے (بیت اللہ کے سامنے والی) گھاٹی کو خاص طور پر مراد لیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم نے یہی سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے سامنے والی گھاٹی کو خاص طور پر مراد لیا تھا۔