حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، قَالَ: مَنْ أَرْسَلَكَ؟ قُلْتُ: فُلَانٌ، قَالَ: وَمَا مَنَعَهُ أَنْ يَأْتِيَنِي فَيَسْأَلَنِي؟ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا مُبْتَذِلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ
ترجمہ
کنانہ (اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ) بیان کرتے ہیں: مجھے ایک امیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ انہوں نے فرمایا: تمہیں کس نے بھیجا؟ میں نے کہا: فلاں نے۔ فرمایا: اسے کس چیز نے روکا کہ وہ خود میرے پاس آ کر پوچھتا؟ رسول اللہ ﷺ عاجزی، گڑگڑاتے ہوئے اور سادگی سے نکلے، آپ ﷺ نے تمہارا یہ رسمی خطبہ نہیں دیا، اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھیں جیسے عید میں پڑھی جاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ أَرْسَلَهُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَلْهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ يَوْمَ اسْتَسْقَى بِالنَّاسِ؟ قَالَ إِسْحَاقُ: فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ يَوْمَ اسْتَسْقَى بِالنَّاسِ؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَخَشِّعًا مُبْتَذِلًا، فَصَنَعَ فِيهِ كَمَا صَنَعَ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى
ترجمہ
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ بیان کرتے ہیں: ولید بن عتبہ نے مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہا: اے بھتیجے! ان سے پوچھو کہ رسول اللہ ﷺ نے استسقاء کے دن جب لوگوں کے لیے بارش طلب کی تو کیسے کیا تھا؟ اسحاق کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور کہا: اے ابوالعباس! رسول اللہ ﷺ نے استسقاء کے دن جب لوگوں کے لیے بارش طلب کی تو کیسے کیا تھا؟ فرمایا: رسول اللہ ﷺ عاجزی اور سادگی سے نکلے، اور اس میں اسی طرح کیا جیسے عیدالفطر اور عیدالاضحی میں کرتے تھے۔