حدیث نمبر: 10772
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، قَالَ: مَنْ أَرْسَلَكَ؟ قُلْتُ: فُلَانٌ، قَالَ: وَمَا مَنَعَهُ أَنْ يَأْتِيَنِي فَيَسْأَلَنِي؟ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا مُبْتَذِلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ
ترجمہ

کنانہ (اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ) بیان کرتے ہیں: مجھے ایک امیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ انہوں نے فرمایا: تمہیں کس نے بھیجا؟ میں نے کہا: فلاں نے۔ فرمایا: اسے کس چیز نے روکا کہ وہ خود میرے پاس آ کر پوچھتا؟ رسول اللہ ﷺ عاجزی، گڑگڑاتے ہوئے اور سادگی سے نکلے، آپ ﷺ نے تمہارا یہ رسمی خطبہ نہیں دیا، اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھیں جیسے عید میں پڑھی جاتی ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10772
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 331، حدیث 10818