کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف کہ نبی کریم ﷺ اکثر نماز سے اپنی بائیں جانب سے پلٹتے تھے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، وَلَا يَرَى حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِهِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اپنے آپ میں سے شیطان کے لیے کوئی حصہ نہ رکھے، اور یہ نہ سمجھے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سے اپنی دائیں طرف سے ہی پلٹے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر اپنی بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اپنے آپ میں سے شیطان کے لیے کوئی حصہ نہ رکھے، وہ یہی سمجھتا ہے کہ اس پر لازم ہے کہ نماز سے صرف اپنی دائیں طرف سے پلٹے، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر اپنی بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اپنے آپ میں سے شیطان کے لیے کوئی حصہ نہ رکھے، وہ یہی سمجھتا ہے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی دائیں طرف سے پلٹے، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر اپنی بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْبُرْجُلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ. وَهَكَذَا رَوَاهُ أَصْحَابُ الْأَعْمَشِ، وَخَالَفَهُمُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر اپنی بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا۔
اعمش کے شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ حجاج بن ارطاۃ نے ان کی مخالفت کی ہے۔
اعمش کے شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ حجاج بن ارطاۃ نے ان کی مخالفت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْعِجْلِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر اپنی بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا۔