کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ظہیر بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ میں شریک
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ " مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ: ظَهِيرُ بْنُ رَافِعٍ "
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں: عقبہ میں حاضر ہونے والے انصار کے ناموں میں سے، پھر بنو حارثہ بن حارث میں سے: سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ " مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ: ظَهِيرُ بْنُ رَافِعٍ "
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: عقبہ میں حاضر ہونے والے انصار کے ناموں میں سے، پھر بنو حارثہ بن حارث میں سے: سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَمِّهِ ظَهِيرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ قُلْتُ: نُكْرِيهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ. فَقَالَ: «لَا تَفْعَلُوا، أَوِ ازْرَعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا» . قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةً
ترجمہ
سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نفع بخش تھا۔ (پھر) رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی یا آٹھویں حصے پر کرائے پر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، یا تو خود کاشت کرو یا اسے (یونہی) چھوڑ دو۔“ میں نے عرض کیا: سمعاً و طاعۃً (ہم نے سنا اور مان لیا)۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ ظَهِيرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا. قُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ. فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟» قُلْنَا: نُؤَجِّرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالثُّلُثِ وَالْأَوْسُقِ مِنَ التِّبْنِ وَالشَّعِيرِ. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا»
ترجمہ
سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے مفید تھا۔ (راوی نے) عرض کیا: جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ حق ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی، تہائی، اور کچھ متعین وسق بھوسے اور جو کے عوض کرائے پر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، خود اسے کاشت کرو یا کسی اور سے کاشت کراؤ۔“