المعجم الكبير للطبراني
باب الظاء— حرف ظا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ظهير بن رافع الأنصاري، عقبي باب: سیدنا ظہیر بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ میں شریک
حدیث نمبر: 8235
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَمِّهِ ظَهِيرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ قُلْتُ: نُكْرِيهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ. فَقَالَ: «لَا تَفْعَلُوا، أَوِ ازْرَعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا» . قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةًترجمہ
سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نفع بخش تھا۔ (پھر) رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی یا آٹھویں حصے پر کرائے پر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، یا تو خود کاشت کرو یا اسے (یونہی) چھوڑ دو۔“ میں نے عرض کیا: سمعاً و طاعۃً (ہم نے سنا اور مان لیا)۔