کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ شَافِعٌ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فَرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، وَتَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، فَإِنَّ تَعَلُّمَهَا بَرَكَةٌ، وَإِنَّ تَرْكَهَا لَحَسْرَةٌ، وَلَا يُطِيقُهَا الْبَطَلَةُ» يَعْنِي بِالْبَطَلَةِ: السَّحَرَةَ
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، سورۃ البقرہ اور سورۃ آلِ عمران سیکھو، ان دونوں چمکدار سورتوں کو سیکھو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے دو بادل ہوں، یا دو سائبان ہوں، یا پرندوں کے دو جھنڈ ہوں جو صف باندھے ہوں، وہ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ اور سورۃ البقرہ سیکھو کیونکہ اس کا سیکھنا برکت ہے، اور اسے چھوڑ دینا حسرت ہے، اور جادوگر اس کا سامنا نہیں کر سکتے۔“ آپ ﷺ کی مراد ”بطلہ“ سے جادوگر تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8087
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 291، حدیث 8118
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَعَلُّمِ الْقُرْآنِ، وَحَثَّنَا عَلَيْهِ وَقَالَ: " إِنَّ الْقُرْآنَ يَأْتِي أَهْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْوَجَ مَا كَانُوا إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لِلْمُسْلِمِ: أَتَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ؟ أَنَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّ، وَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَكَ الَّذِي كَانَ يَسْحَبُكَ وَيُدْنِيكَ، فَيَقُولُ: لَعَلَكَ الْقُرْآنُ، فَيُقْدَمُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ السَّكِينَةُ، وَيُنْشَرُ عَلَى أَبَوَيْهِ خَلَّتَانِ لَا يَقُومُ لَهُمْا الدُّنْيَا أَضْعَافًا، فَيَقُولَانِ لِأَيِّ شَيْءٍ كُسِينَا هَذِهِ، وَلَمْ يَبْلُغْهُ أَعْمَالُنَا؟ فَيَقُولُ: هَذَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ "
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قرآن سیکھنے کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی اور فرمایا: ”بے شک قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے پاس اس وقت آئے گا جب انہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی، وہ مسلمان سے کہے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ کہے گا: تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں وہی ہوں جس سے تم محبت کرتے تھے، اور جو تمہیں گھسیٹتا اور تمہیں اللہ کے قریب کرتا تھا، اس سے جدا ہونا تمہیں ناپسند تھا۔ وہ کہے گا: شاید تم قرآن ہو؟ پھر اسے اس کے رب عزوجل کے پاس پیش کیا جائے گا، تو اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائے گی، اور اس کے سر پر سکینت رکھی جائے گی، اور اس کے والدین کو دو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کے برابر ساری دنیا بھی کئی گنا نہیں پہنچ سکتی، وہ دونوں کہیں گے: ہمیں یہ کیوں پہنایا گیا حالانکہ ہمارے اعمال اس درجے کو نہیں پہنچتے تھے؟ کہا جائے گا: یہ اس لیے کہ تمہاری اولاد نے قرآن سیکھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 291، حدیث 8119