حدیث نمبر: 8087
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ شَافِعٌ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فَرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، وَتَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، فَإِنَّ تَعَلُّمَهَا بَرَكَةٌ، وَإِنَّ تَرْكَهَا لَحَسْرَةٌ، وَلَا يُطِيقُهَا الْبَطَلَةُ» يَعْنِي بِالْبَطَلَةِ: السَّحَرَةَ
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، سورۃ البقرہ اور سورۃ آلِ عمران سیکھو، ان دونوں چمکدار سورتوں کو سیکھو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے دو بادل ہوں، یا دو سائبان ہوں، یا پرندوں کے دو جھنڈ ہوں جو صف باندھے ہوں، وہ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ اور سورۃ البقرہ سیکھو کیونکہ اس کا سیکھنا برکت ہے، اور اسے چھوڑ دینا حسرت ہے، اور جادوگر اس کا سامنا نہیں کر سکتے۔“ آپ ﷺ کی مراد ”بطلہ“ سے جادوگر تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8087
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 291، حدیث 8118