المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبي أمامة باب: ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَعَلُّمِ الْقُرْآنِ، وَحَثَّنَا عَلَيْهِ وَقَالَ: " إِنَّ الْقُرْآنَ يَأْتِي أَهْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْوَجَ مَا كَانُوا إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لِلْمُسْلِمِ: أَتَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ؟ أَنَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّ، وَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَكَ الَّذِي كَانَ يَسْحَبُكَ وَيُدْنِيكَ، فَيَقُولُ: لَعَلَكَ الْقُرْآنُ، فَيُقْدَمُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ السَّكِينَةُ، وَيُنْشَرُ عَلَى أَبَوَيْهِ خَلَّتَانِ لَا يَقُومُ لَهُمْا الدُّنْيَا أَضْعَافًا، فَيَقُولَانِ لِأَيِّ شَيْءٍ كُسِينَا هَذِهِ، وَلَمْ يَبْلُغْهُ أَعْمَالُنَا؟ فَيَقُولُ: هَذَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ "سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قرآن سیکھنے کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی اور فرمایا: ”بے شک قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے پاس اس وقت آئے گا جب انہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی، وہ مسلمان سے کہے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ کہے گا: تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں وہی ہوں جس سے تم محبت کرتے تھے، اور جو تمہیں گھسیٹتا اور تمہیں اللہ کے قریب کرتا تھا، اس سے جدا ہونا تمہیں ناپسند تھا۔ وہ کہے گا: شاید تم قرآن ہو؟ پھر اسے اس کے رب عزوجل کے پاس پیش کیا جائے گا، تو اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائے گی، اور اس کے سر پر سکینت رکھی جائے گی، اور اس کے والدین کو دو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کے برابر ساری دنیا بھی کئی گنا نہیں پہنچ سکتی، وہ دونوں کہیں گے: ہمیں یہ کیوں پہنایا گیا حالانکہ ہمارے اعمال اس درجے کو نہیں پہنچتے تھے؟ کہا جائے گا: یہ اس لیے کہ تمہاری اولاد نے قرآن سیکھا۔“