حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجَعْدِ، مَوْلَى بَنِي ضُبَيْعَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيَّةٌ» . وَتُوُفِّيَ آخَرُ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيَّتَانِ»
ترجمہ
ابوالجعد، غلام بنی ضبیعہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ اصحابِ صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوا اور ایک دینار چھوڑ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک داغ۔“ اور ایک اور آدمی فوت ہوا اور دو دینار چھوڑ گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دو داغ۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ أَوِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْتَرَيْتُ مِقْسَمَ فُلَانَ، فَرَبِحْتُ عَلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ رِبْحًا؟» قَالَ: وَهَلْ يُوجَدُ؟ قَالَ: «رَجُلٌ تَعَلَّمَ آيَاتٍ» فَذَهَبَ، فَتَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ
ترجمہ
…سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میں نے فلاں کا حصہ خریدا اور اس میں اتنا اتنا منافع کمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر منافع والی چیز نہ بتاؤں؟“ اس نے عرض کیا: کیا ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آدمی جو آیات سیکھے۔“ چنانچہ وہ گیا اور دس آیات سیکھ کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو بتایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ وَرَجُلٌ يَقُصُّ، فَسَكَتَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُصَّ، وَلَأَنْ أَقْعُدَ هَذَا الْمَقْعَدَ مِنْ حِينِ تُصَلِّي الْغَدَاةَ إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ، وَلَأَنْ أَقْعُدَ مِنْ حِينِ تُصَلِّي إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ»
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ایک آدمی وعظ بیان کر رہا تھا، وہ خاموش ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیان جاری رکھو۔ اگر میں فجر کی نماز پڑھنے سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اس جگہ بیٹھا رہوں تو یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے بھی زیادہ پسند ہے، اور اگر میں نماز پڑھنے سے لے کر سورج غروب ہونے تک بیٹھا رہوں تو یہ بھی مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔“