کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سالم بن ابی جعد کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَضْمَضَ أَحَدُكُمْ فَاهُ، حُطَّ مَا أَصَابَ بِفِيهِ، وَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ حُطَّ مَا أَصَابَ وَجْهُهُ، وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِيَدِهِ، وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِرِجْلَيْهِ» فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَ ذَلِكَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا أَبَا أُمَامَةَ صَحِبْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا سَمِعْنَاهُ يَقُولُ مَا تَقُولُ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: «لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے جو کچھ اسے لگا تھا وہ جھڑ جاتا ہے، اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے جو کچھ اسے لگا تھا وہ جھڑ جاتا ہے، اور جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ سے جو کچھ اسے لگا تھا وہ جھڑ جاتا ہے، اور جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے جو کچھ اسے لگا تھا وہ جھڑ جاتا ہے۔“ اس پر ایک آدمی نے کہا: اے ابوامامہ، دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو، ہم نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی، مگر ہم نے کبھی آپ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا جو تم کہہ رہے ہو۔ اس پر ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں نے یہ ایک یا دو بار ہی سنا ہوتا تو بھی بیان نہ کرتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانَ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَتَوَضَّأُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ وضو کرتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں، پھر جب اپنے بازو دھوتا ہے تو اس کے بازوؤں سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں، پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے اس کی خطائیں نکل جاتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهَا صِبْيَانٌ لَهَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُنَّ. فَأَعْطَتْ كُلَّ صَبِيٍّ تَمْرَةً وَأَمْسَكَتْ وَاحِدَةً، فَبَكَى صِبْيَانُهَا فَأَخَذَتْ تِلْكَ التَّمْرَةَ، فَشَقَّتْهَا نِصْفَيْنِ، فَأَعْطَتْ هَذَا نِصْفًا وَهَذَا نِصْفًا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ مُرْضِعَاتٌ رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ»
ترجمہ
…اس کے بچے رونے لگے تو اس نے وہ کھجور لے کر دو حصوں میں تقسیم کر دی، ایک کو آدھا اور دوسرے کو آدھا دے دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حاملہ، زچہ، دودھ پلانے والی اور اپنی اولاد پر مہربان عورتیں — اگر ان کی اپنے شوہروں کے بارے میں (بعض) کوتاہیاں نہ ہوتیں تو ان میں سے نماز پڑھنے والیاں (سب) جنت میں داخل ہو جاتیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا صِبْيَانٌ لَهَا صَبِيٌّ تُرْضِعُهُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَبَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُعْطِيهَا حَتَّى أَصَابَ ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَأَعْطَتْ هَذَا وَاحِدًا، وَهَذَا وَاحِدًا، وَأَمْسَكَتْ تَمْرَةً، فَبَكَى أَحَدُ الصَّبِيَّيْنِ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ نِصْفَيْنِ، فَأَعْطَتْ هَذَا نِصْفًا وَهَذَا نِصْفًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ مُرْضِعَاتٌ، رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ، لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ لَدَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ»
ترجمہ
…اس نے ایک بچے کو ایک کھجور دی اور دوسرے کو ایک، اور ایک کھجور اپنے پاس رکھ لی، اس پر دونوں میں سے ایک بچہ رونے لگا تو اس نے وہ کھجور بھی دو حصوں میں تقسیم کر دی، ایک کو آدھا اور دوسرے کو آدھا دے دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حاملہ، زچہ، دودھ پلانے والی اور اپنی اولاد پر مہربان عورتیں — اگر ان کی اپنے شوہروں کے بارے میں (بعض) کوتاہیاں نہ ہوتیں تو ان میں سے نماز پڑھنے والیاں جنت میں داخل ہو جاتیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللهُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ»
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی حمد ہے، اس کی مخلوق کی گنتی کے برابر، اللہ کی حمد ہے جتنی اس کی کتاب نے شمار کر رکھی ہے، اللہ کی حمد ہے ہر چیز کی گنتی کے برابر، اللہ کی حمد ہے ہر چیز پر، اور اللہ پاک ہے ہر چیز پر، اور اللہ پاک ہے ہر چیز کی گنتی کے برابر۔“