المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم بن أبي الجعد، عن أبي أمامة باب: سالم بن ابی جعد کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا صِبْيَانٌ لَهَا صَبِيٌّ تُرْضِعُهُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَبَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُعْطِيهَا حَتَّى أَصَابَ ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَأَعْطَتْ هَذَا وَاحِدًا، وَهَذَا وَاحِدًا، وَأَمْسَكَتْ تَمْرَةً، فَبَكَى أَحَدُ الصَّبِيَّيْنِ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ نِصْفَيْنِ، فَأَعْطَتْ هَذَا نِصْفًا وَهَذَا نِصْفًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ مُرْضِعَاتٌ، رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ، لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ لَدَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کے بچے تھے، ایک بچہ وہ دودھ پلا رہی تھی، اس نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے تلاش کیا مگر کوئی چیز نہ ملی جو اسے دیتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی کسی بیوی کے پاس تین کھجوریں مل گئیں، تو اس نے ایک بچے کو ایک کھجور دی اور دوسرے کو ایک، اور ایک کھجور اپنے پاس رکھ لی، اس پر دونوں میں سے ایک بچہ رونے لگا تو اس نے وہ کھجور بھی دو حصوں میں تقسیم کر دی، ایک کو آدھا اور دوسرے کو آدھا دے دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حاملہ، زچہ، دودھ پلانے والی اور اپنی اولاد پر مہربان عورتیں — اگر ان کی اپنے شوہروں کے بارے میں (بعض) کوتاہیاں نہ ہوتیں تو ان میں سے نماز پڑھنے والیاں جنت میں داخل ہو جاتیں۔“