المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حريز بن عثمان، عن سليم بن عامر باب: حریز بن عثمان کی سلیم بن عامر سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَا: ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ غُلَامًا شَابًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَا، فَصَاحَ النَّاسُ فَقَالَ: «مَهْ» ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَقِرُّوهُ ادْنُ» ، فَدَنَا حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ، أَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ، أَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ، أَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ؟ أَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَكَذَلِكَ النَّاسُ لَا يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ» . فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ، وَقَالَ: «اللهُمَّ كَفِّرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رکو (اسے کچھ نہ کہو)۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قریب بٹھاؤ۔“ وہ قریب آ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے، کیا تو یہ اپنی خالہ کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”اسی طرح لوگ بھی اسے اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! اس کے گناہ کو بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے، اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ رکھ۔“