حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَا: ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ غَزْوَةً، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ، فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا، ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ غَزْوًا آخَرَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا، ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ غَزْوًا ثَالِثًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ تَدْعُو لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ، فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا
ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ وامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ لَا يُلْقَوْنَ إِلَّا صِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْا فِي دَارِهِمْ نَارًا أَوْ دُخَانًا عَلِمُوا أَنَّهُ قَدِ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ "
ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللهُ يَنْفَعُنِي بِهِ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً»
ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ وامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ لَا يُلْقَوْنَ إِلَّا صِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْا فِي دَارِهِمْ نَارًا أَوْ دُخَانًا عَلِمُوا أَنَّهُ قَدِ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ "
ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللهُ يَنْفَعُنِي بِهِ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً»
ترجمہ
رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ کا ارادہ فرمایا تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، میرے لیے شہادت کی دعا کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم نے غزوہ کیا تو سلامت رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک اور غزوہ کا ارادہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میرے لیے شہادت کی دعا کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم نے غزوہ کیا تو سلامت رہے اور غنیمت بھی پائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے تیسرے غزوے کا ارادہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں دو بار آپ کے پاس آیا کہ آپ میرے لیے شہادت کی دعا کریں، تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم نے غزوہ کیا تو سلامت رہے اور غنیمت بھی پائی۔
پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو میں آپ سے سیکھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ چنانچہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ، ان کی بیوی اور ان کے خادم کو ہمیشہ روزے کی حالت میں ہی پایا جاتا، اور جب وہ اپنے گھر میں آگ یا دھواں دیکھتے تو سمجھ جاتے کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہے۔
پھر اس کے بعد میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے مجھے ایک عمل کا حکم دیا جس سے مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے اس سے فائدہ دے گا، اب مجھے کوئی اور عمل بتائیے جس سے اللہ مجھے فائدہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جان لو کہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے، اللہ اس کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور ایک گناہ معاف کرے گا۔“
پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو میں آپ سے سیکھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ چنانچہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ، ان کی بیوی اور ان کے خادم کو ہمیشہ روزے کی حالت میں ہی پایا جاتا، اور جب وہ اپنے گھر میں آگ یا دھواں دیکھتے تو سمجھ جاتے کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہے۔
پھر اس کے بعد میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے مجھے ایک عمل کا حکم دیا جس سے مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے اس سے فائدہ دے گا، اب مجھے کوئی اور عمل بتائیے جس سے اللہ مجھے فائدہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جان لو کہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے، اللہ اس کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور ایک گناہ معاف کرے گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَعْثًا، فَخَرَجْتُ فِيهِمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي الشَّهَادَةَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا، ثُمَّ بَعَثَ جَيْشًا آخَرَ، فَخَرَجْتُ فِيهِمْ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي الشَّهَادَةَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَيْتُكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتُ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَأْمُرْنِي بِعَمَلٍ قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ، وَلَا عِدْلَ لَهُ» قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: «قَدْ رُزِقَ مِنْ ذَلِكَ خَيْرًا»
ترجمہ
رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا تو میں بھی ان میں نکلا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے شہادت نصیب کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم سلامت رہے اور غنیمت بھی پائی۔ پھر آپ ﷺ نے ایک اور لشکر بھیجا، میں اس میں بھی نکلا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے شہادت نصیب کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ پھر تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں تین بار آپ کے پاس آیا کہ آپ میرے لیے شہادت کی دعا کریں، اور آپ نے ہر بار فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم سلامت رہے اور غنیمت پائی، یا رسول اللہ، اب مجھے کوئی عمل بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا اور اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔“ ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سے مجھے بھلائی نصیب ہوئی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ واصِلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَنْشَأَ غَزْوَةً» فَذَكَرَهُ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت (رسول اللہ ﷺ کا غزوہ کا ارادہ فرمانا) ابو ادریس خولانی کے واسطے سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کا قیام (تہجد) لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ تھا، اور یہ تمہارے لیے تمہارے رب سے قربت کا ذریعہ ہے، اور گناہوں کا کفارہ اور برائی سے روکنے والا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «مَنْ أَحْدَثَ هِجَاءً فِي الْإِسْلَامِ، فَاقْطَعُوا لِسَانَهُ» قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: " أَيْ مَعْنَاهُ: هَجَا الْإِسْلَامَ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اسلام میں (اسلام کی) ہجو نکالے، اس کی زبان کاٹ دو۔“
عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے اسلام کی ہجو کی۔
عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے اسلام کی ہجو کی۔